Showing posts with label عورت. Show all posts
Showing posts with label عورت. Show all posts

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں


تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں
رنگ بھرتی رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں
بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں
کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں
حد سے مہرباں، بیان سے اچھی
بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

میرے پُرکھوں کی پہلی دعا





رات کی کوکھ سے


صبح کی ایک ننھی کرن نے یوں جنم لیا


شب نےننھی شفق کی گلابی


حسین مُٹھیاں کھول کر


کچھ لکیریں پڑھیں


اور صبا سے نا معلوم چپکے سے کیا کہہ دیا


یوں کے شبنم کی آنکھ سے آنسو بہے


اک ستارہ ہنسا


چاندنی مسکراتی ہوئی چل پڑی


اور نفاست سے پہلو بدلتے ہوئے


چونک کر میری ماں نے بہت شوق سے


کچھ اشارہ کیا


آہٹوں اور سرگوشیوں میں کسی نے کہا


آہ لڑکی ہے یہ


اتنی افسُردہ آواز، میرے خدا


میری پہلی سماعت پر لکھی گئی


میری پہلی ہی سانسوں میں گھولا گیا


ان شکستہ لمحوں کا زہریلا پن


آہ لڑکی ہے، آہ لڑکی ہے، لڑکی ہے


اس کی قسمت کی دعا مانگو


اب بھی میری سماعت پہ لکھی ہے وہ


میرے پُرکھوں کی پہلی دعا







عورت اور تعلیم

تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ا
ربابِ نظر موت

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت

عورت

عورت بظاہر چار حروف کا مجموعہ ہے لیکن




ماں بنے تو محبت و مٹھاس ،


بہن بنے تو ہمدردی ،


بیوی بنے تو خدمت و اطاعت


اور


بیٹی بنے تو راحت و چین کے دریا بہا دیتی ہے ۔


عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !


عورت کو کبھی ہیچ سمجھنا نہ خدارا


عورت کبھی مریم کبھی حوّا کبھی زہرا




عورت کی عزت کے بارے میں بس اتنا کہوں گا۔


جنگ خیبر کے بعد بارگاہ رسالت میں ایک یہودی لڑکی ننگے سر لائی گئی ۔ حضور ﷺ نے اپنے کندھے سے اپنی چادر مبارک اُتار کر اس یہودی لڑکی کے سر پر ڈال دی ۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ تو یہودی کی بیٹی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیٹی بیٹی ہوتی ہے خواہ وہ یہودی کی ہو یا مسلمان کی۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے نزدیک عورتوں کا کتنا بڑا مقام ہے جسکا تصور دنیا کا کوئی مذہب کوئی تہذیب نہیں کرسکتی ۔