Showing posts with label حضرت واصف علی واصف. Show all posts
Showing posts with label حضرت واصف علی واصف. Show all posts

منقبت حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ



ٹوٹے دلوں کی آس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


ایک مردحق شناس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


دنیا کو کر کے ایک طرف غور کیجئے



وہ روح کی مٹھاس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


سویا ہے جسم تان کے مٹی کا سائباں


لیکن وہ سب کے پاس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


لفظوں میں جگمگاتا ہے ایک نور آگہی


اسلوب نو کی باس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


تخریب کے حصار میں انسان کیلئے



تعمیر کی اساس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


عشقِ نبی سے عشقِ خدا پر شباب ہے


حق سچ کا اقتباس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


روحوں کے آشنا کو میری روح کا سلام


ہر سمت اس کی باس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


واصفؒ کے وصف وصف میں ہیں بے شمار وصف


اہل نظر کی پیاس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


کرتا ہے سر اٹھا کہ ہمیشہ وطن کی بات


وہ کتنا خوش حواس ہے واصفؒ ہے جس کا نام


ہم جان اس سے دور ہیں ہم سے نہیں وہ دور


روحوں کے آس پاس ہے واصفؒ ہے جس کا نام

نعتِ رسولِ مقبولﷺ



کیوں ‘ آ کے رو رہا ہے ‘ آقا کے شہر میں
ہر درد کی دوا ہے ‘ آقا کے شہر میں

آﺅ گنہگارو ‘ چلو ‘ سر کے بل چلیں
بخشش کا دَر کھلا ہے ‘ آقا کے شہر میں

مانگے ‘ نہ بھیک مانگے ‘ یہ مرضی فقیر کی
بن مانگے مل رہا ہے ‘ آقا کے شہر میں

جھکتے ہیں سب ملائک ‘ کعبہ کے سامنے
کعبہ جھکا ہوا ہے ‘ آقا کے شہر میں

جنت کی آرزو نہیں مجھ کو ‘ میرے خدا
دو گز بڑی جگہ ہے ‘ آقا کے شہر میں

واصفؒ ‘ میرے لیے تو ‘ مدینہ ہے لامکاں
جنت کی اِنتہا ہے ‘ آقا کے شہر میں


اللہ کی رحمت

اللہ کو یاد کرنا، اس کو پکارنا، اس کی رحمت کو پکارنا رحمان کو پکارنا ہے رحیم کو پکارنا ہے۔ ستار و غفار کو پکارنا ہے۔ کسی نے قہار کو نہیں پکارا، حالانکہ یہ اللہ ہی کی صفت ہے۔ ہم اس صفت کو پکارتے ہیں جس سے ہمیں واسطہ ہے، رزق دینے والا، معافی دینے والا، شفادینے والا، زندگی بخشنے والا، نیکی کی توفیق دینے والا، مطلب یہ کہ اللہ کی سب صفات ، سب کے پکارنے کے لیے نہیں ہیں۔ اللہ سے عزت مانگو اور عزت حاصل کرنے کے اعمال کا علم مانگو
۔ ہم خیر کے قافلے میں ہیں۔ ہماری عاقبت خیر والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ کے محبوبﷺ سے محبت رکھنے والوں کے ساتھ ہے۔
مخالفین دین کی عاقبت ، اور ان کے انجام کے بارے میں اللہ جانے اور اللہ کا پروگرام۔
دوزخ کی آگ کو کیسے انسانوں کا انتظار ہے۔ کم از کم مسلمانوں کا نہیں۔ اللہ کے محبوب
ﷺ کو ماننے والے دوزخ میں نہیں جا سکتے۔

سوچنے کی بات



انسان دوسرے کی دولت دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیو ں ہوتا ہے۔

یہ تقسیم تقدیر ہے۔ہمارے لیے ہمارے ماںباپ ہی باعث تکریم ہیں۔

ہماری پہچان ہمارہ اپنا چہرہ ہے۔

ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے۔

اسی طرح ہماری خوشیاںہمارے ا پنے حالات اور ماحول میںہیں۔

ہم یہ نہیںجان سکتے کے فلاںکی ساتھ ایسا کیوںاور ہمارے ساتھ ویسا کیوںہے۔
حضرت موسیٰ(ع) نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا!
اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوںپیدا فرمایا؟
اللہ تعالیٰ نے جواب دیا۔

عجب بات ہے ابھی ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی، اے رب العالمین آپ نے موسیٰ کو کیوںپیدا کیا؟
بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر خوش و راضی رہے۔

Moti!!! -Hazrat Wasif Ali Wasif r.a-

سورج کا مذہب نہیں پوچھا جاتا اُس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔"
"جب آنکھ دل بن جائے تو دل آنکھ بن جاتا ہے"
''چمگادڑوں کو جلوہ آفتاب نظر نہیں آتا اس میں روشنی کا کیا قصور"

"انا کا سفر ختم ہو جائے تو ظلم کا سفر ختم ہو جاتا ہے"
پست خیال آدمی آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے مگر دوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔